23 مارچ 2026 - 02:05
معرکۂ وعدہ صادق-4 کی 73ویں لہر؛ عراد اور دیمونا سمیت مختلف علاقے میزائلوں کی زد میں آگئے

معرکۂ وعدہ صادق-4 کی 73ویں لہر میں عراد، دیمونا،ایلات، بئر السبع اور کریات گت کو کوڈنیم "یا حیدر (علیہ السلام)"  کے ساتھ، سے بھاری میزائلوں کا نشانہ بنا کر 200 صہیونیوں کو ہلاک اور زخمی کیا گیا۔ صہیونی نامہ نگاروں پر ـ ایرانی میزائلوں کی تباہ کاریوں کو کوریج دینے کے سلسلے میں ـ سینسر شپ مزید سخت کر دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || معرکۂ وعدہ صادق-4 کی 73ویں لہر میں عراد، دیمونا،ایلات، بئر السبع اور کریات گت کو کوڈنیم "یا حیدر (علیہ السلام)"  کے ساتھ، سے بھاری میزائلوں کا نشانہ بنا کر 200 صہیونیوں کو ہلاک اور زخمی کیا گیا۔ صہیونی نامہ نگاروں پر ـ ایرانی میزائلوں کی تباہ کاریوں کو کوریج دینے کے سلسلے میں ـ سینسر شپ مزید سخت کر دیا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ کا بیان:

معرکۂ وعدہ صادق-4 کی 73ویں لہر "یا حیدر علیہ السلام" کے کوڈنیم کے ساتھ، ایئرڈیفنس کے شہداء کے یاد میں ـ شروع ہوئی، صہیونی ریاست کے ایئر ڈیفنس سسٹم کے انہدام کے بعد مقبوضہ فلسطین کے جنوبی اور شمالی علاقوں کو میزائل اور ڈرونز کے بھاری اور کامیاب حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

مقبوضہ فلسطین میں 'عراد'، 'دیمونا'، 'ایلات (ام الرشراش)'، بئر السبع' اور 'کریات گت' میں صہیونی اڈوں، سیکورٹی اداروں، اور فوجی تنصیبات کو، اور خطے میں امریکی اڈوں 'علی السالم، منہاد اور الظفرہ' کو فتاح، قدر اور عماد میزائلوں اور حملہ آور ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔

فیلڈ رپورٹس کے مطابق، حملے کی ابتداء میں 200 صہیونی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ صہیونی سیکورٹی حکام نے عینی گواہوں اور نامہ نگاروں کو تباہ کاریوں اور ہلاکتوں کی خبریں شائع کرنے سے سختی سے منع کیا اور سینسر شپ کو مزید سخت کر دیا۔

ضروری ہے کہ حزب اللہ لبنان کی عزتمندانہ مجاہدتوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے جنہوں نے لبنان کی ارضی سالمیت کے دفاع کے لئے ایک سخت محاذ کھول دیا ہے اور مقبوضہ فلسطین کے شمال اور مرکز میں صہیونیوں کو کامیاب میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے اور ہم ان کامیابیوں پر لبنانی قوم اور خطے کے مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

مقبوضہ اور مغصوبہ فلسطینی اراضی میں رہائش پذیر یہودی آبادکاروں کو انتہائی افسوسناک صورت حال میں چھوڑ دیا گیا ہے، جس کا سبب یہ ہے کہ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ نے پورے خطے کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ یہودی آبادکاروں کی بستیاں فوجی مراکز، چھاؤنیوں اور خفیہ جوہری تنصیبات کے بیچ واقع ہوئی ہیں، یا یوں کہئے کہ یہ مراکز رہائشی علاقوں کے بیچ بنائی گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی، صحت اور سلامتی ہر وقت خطرے سے دوچار رہتی ہے اور انہیں دن کا زیادہ تر حصہ زیر زمین پناہ گاہوں میں گذارنا پڑتا ہے۔

جنگی صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے اور فلسطین کی مقبوضہ سرزمین کے حوالے سے صہیونی فوج کی دفاعی صلاحیتیں تیزی سے شکست و ریخت سے دوچار ہو رہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha